غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اُٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا اُن نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار میں نے اُسے ہزار جتایا تو کیا ہوا مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا میں صیدِ ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں ظاہر جہاں سے ہاتھ اُٹھایا تو کیا ہوا…
Read MoreTag: میر تقی میر
میر تقی میر ۔۔۔ ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا ہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا کیا اُن نے نشے میں مجھ کومارا اتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا محنت زدوں کے جگر نہ ہوگا (ق) دنیا کی نہ کر تو خواست گاری اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا آ خانہ خرابی اپنی مت کر قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں ماتم زدہ میر…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا ہم رہروانِ راہِ فنا ہیں بہ رنگِ عمر جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا اپنے شہیدِ ناز سے بس ہاتھ اُٹھا کہ پھر دیوانِ حشر میں اُسے لایا نہ جائے گا اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا ہم…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اپنے ہوتے تو با عتاب رہا
اپنے ہوتے تو با عتاب رہا بے دماغی سے با خطاب رہا ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا ناکسی سے ہمیں حجاب رہا نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا کم بہت موسمِ شباب رہا کارواں ہائے صبح ہوتے گیا میں ستم دیدہ محوِ خواب رہا ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے ضعف سے حالِ دل خراب رہا گھر سے آئے گلی میں سو باری یار بن دیر اضطراب رہا ہم سے سلجھے نہ اس کے الجھے بال جان کو اپنی پیچ و تاب رہا پردے میں کام یاں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ ہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا
رہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا نہیں ستارے یہ سوراخ پڑگئے ہیں تمام فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا گلی میں اُس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا لباسِ فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا تمام زلف کے کوچے ہیں مارِ پیچ اُس کی تجھی کو آوے دِلا! چلنا ایسی راہوں کا کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمانِ حال کہ کوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا حساب کا ہے کا روزِ شمار میں مجھ سے شمار…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ نہیں ستارے یہ سوراخ پڑگئے ہیں تمام
رہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا نہیں ستارے یہ سوراخ پڑگئے ہیں تمام فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا گلی میں اُس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا لباسِ فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا تمام زلف کے کوچے ہیں مارِ پیچ اُس کی تجھی کو آوے دِلا! چلنا ایسی راہوں کا کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمانِ حال کہ کوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا حساب کا ہے کا روزِ شمار میں مجھ سے شمار…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کا
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کاخاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کاسیکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیکعذر ہی جاہے چلا اس کے دلِ بد خواہ کاگر کوئی پیرِ مغاں مجھ کوکرے تو دیکھےپھرمے کدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کاکاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میںظلم ہے اک خلق پر آشوب اُن کی آہ کا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ کیا کہوں کیسا ستم غفلت میں مجھ سے ہوگیا
کیا کہوں کیسا ستم غفلت میں مجھ سے ہوگیا قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا بےکسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر جو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا کچھ خطرناکی طریقِ عشق میں پنہاں نہیں کھپ گیا وہ راہ رو اس راہ ہو کر جو گیا مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا میر ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ جب سے وہ دریا پہ آکر بال اپنے…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اے تو کہ یاں سے عاقبتِ کار جائے گا
اے تو کہ یاں سے عاقبتِ کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا موقوف حشر پر ہے سو آتی بھی وہ نہیں کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا چُھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیوں کہ تاسرِدیوار جائے گا دے گی نہ چین لذتِ زخم اُس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا آئے بِن اُس کےحال ہوا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا
مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا اک مغ بچہ اُتار کے عمّامہ لے گیا داغِ فراق و حسرتِ وصل آرزوئے عشق میں ساتھ زیرِ خاک بھی ہنگامہ لے گیا پہنچا نہ پہنچا آہ گیا سو گیا غریب وہ مرغِ نامہ بر جو مرا نامہ لے گیا اُس راہزن کے ڈھنگوں سے دیوے خدا پناہ اک مرتبہ جو میرؔ جی کا جامہ لے گیا
Read More