شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس!
گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا
Related posts
-
یزدانی جالندھری
ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو -
-
حمایت علی شاعر
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم...
