ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو
Read MoreDay: اکتوبر 31، 2026
ادا جعفری
وہ بے نقاب سامنے آئیں بھی اب تو کیا دیوانگی کو ہوش کی فرصت نہیں رہی
Read Moreحمایت علی شاعر
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا
Read Moreیزدانی جالندھری
نگاہِ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے ہوائے شوق ذرا اور بھی نکھار مجھے
Read Moreاسلم کولسری ۔۔۔ نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے
نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمامِ حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلم جو کرنا…
Read Moreبشر نواز
روز راہوں سے گزرتا ہے صداؤں کا جلوس دل کا سناٹا مگر روز بڑھا کرتا ہے
Read Moreبشر نواز
برسوں میں پہلے ہوتی تھی نم آستیں کبھی ارزاں متاع دیدۂ تر اس طرح نہ تھی
Read Moreبشر نواز
مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے کچھ دور چلو آؤ ذرا تم بھی تو دیکھو
Read Moreصفی لکھنوی
راہِ خدا میں نفسِ حریفانہ ساتھ ہے ہشیار اک ذرا سگِ دیوانہ ساتھ ہے
Read Moreصفی لکھنوی
کس قدر اچھا ہے نور اس کا خود مستور ہے جلوہ گر دل کے قریب آنکھوں سے دور ہے
Read More