صفی لکھنوی

انتظارِ مرگ میں پیری نفس بردوش ہے کوئی دم میں اب چراغِِ زندگی خاموش ہے

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ پذیرائی

ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیا میرے بالوں پہ آنکھوں پہ پلکوں پہ، ہونٹوں پہ، ماتھے پہ، رخسار پر پھول ہی پھول تھے دو بہت مسکراتے ہوئے ہونٹ میرے بدن پر محبت کی گلنار مہروں کو یوں ثبت کرتے چلے جا رہے تھے کہ جیسے ابد تک مری ایک اک پور کا انتساب اپنی زیبائی کے نام لے کر رہیں گے مجھے اپنے اندر سمو کر رہیں گے!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ گئے جنم کی صدا

وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اس کے چہرے کو جانتی ہوں کہ اس کا چہرہ تمہاری نظموں، تمہاری گیتوں کی چلمنوں سے ابھر رہا ہے یقین جانو مجھے یہ چہرہ تمہارے اپنے وجود سے بھی عزیز تر ہے کہ اس کی آنکھوں میں چاہتوں کے وہی سمندر چھپے ہیں جو میری اپنی آنکھوں میں موجزن ہیں وہ تم کو اک دیوتا بنا کر مری طرح پوجتی رہی ہے اس ایک لڑکی کا جسم خود میرا ہی بدن ہے وہ ایک…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ وہی نرم لہجہ

وہی نرم لہجہ جو اتنا ملائم ہے جیسے دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہو شفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو کس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفر وہی نرم لہجہ کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گا تو ایسا لگے جیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہو وہی نرم لہجہ کسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرے تو ایسا لگے جیسے قوسِ قزح نے کہیں پاس…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ نہیں میرا آنچل میلا ہے

نہیں میرا آنچل میلا ہے اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں کسی ہوا  نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے تیری اجلی پیشانی پر گئے دنوں کی کوئی گھڑی پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی اور میرے ماتھے کی سیاہی تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی اچھے لڑکے مجھے نہ ایسے دیکھ اپنے سارے جگنو سارے پھول سنبھال کے رکھ لے پھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیں اور جگنو پہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیں چاہے اوڑھنی…

Read More