درد و غم کا علاج کیسے ہو
چاہتوں کا رواج کیسے ہو
کل تو جو حال بھی تمھارا تھا
یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو
فرصتِ زندگی نہیں ہم کو
پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو
یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا
ختم آخر سماج کیسے ہو
اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو
گھر میں وافر اَناج کیسے ہو
ہم کو عزّت ندیم ہے درکار
سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Related posts
-
ایک زمیں ۔۔۔ پانچ غزلیں۔۔۔ امید فاضلی ۔ محسن نقوی۔ جاذب قریشی ۔ احتشام بچھرایونی ۔ محسن احسان
امید فاضلی اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی... -
ماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے... -
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے
حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا...
