درد و غم کا علاج کیسے ہو
چاہتوں کا رواج کیسے ہو
کل تو جو حال بھی تمھارا تھا
یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو
فرصتِ زندگی نہیں ہم کو
پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو
یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا
ختم آخر سماج کیسے ہو
اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو
گھر میں وافر اَناج کیسے ہو
ہم کو عزّت ندیم ہے درکار
سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
