درد و غم کا علاج کیسے ہو چاہتوں کا رواج کیسے ہو کل تو جو حال بھی تمھارا تھا یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو فرصتِ زندگی نہیں ہم کو پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا ختم آخر سماج کیسے ہو اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو گھر میں وافر اَناج کیسے ہو ہم کو عزّت ندیم ہے درکار سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Read MoreTag: ریاض ندیم نیازی کی غزلیں
ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ میں کہوں سچ تو میرا سر جائے
میں کہوں سچ تو میرا سر جائے جھوٹ بولوں تو روح مر جائے ہے عجب درد کی یہ دولت بھی جو سمیٹے وہی بکھر جائے زہر سچ کا ہے میرے اندر جو کاش شعروں میں سب اُتر جائے وعدہ روٹی مکان کپڑے کا دیکھنا پھر نہ وہ مُکر جائے شام کو دیکھ کر پرندوں کو سوچتا ہے وہ اپنے گھر جائے صبح یہ شہر چھوڑ جاؤں گا خیر سے شب اگر گزر جائے خونِ دل سے لکھا گیا ہو جو لفظ وہ روشنی سے بھر جائے ہے ندیم اُس کی…
Read Moreریاض ندیم نیازی ۔۔۔ نعتیہ ہائیکوز (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )
جھولی بھر دونا میری مُرادیں بھی آقاؐ پوری کر دونا! ۔۔۔۔۔ ایسا کوئی ہے کُل عالم میں آقاؐ سا جیسا کوئی ہے؟ ۔۔۔۔ کس کو جانا غیر پیارے نبیؐ نے رکھا کب دُشمن سے بھی بَیر! ۔۔۔۔ رحمت کا عالم جب بھی مدینے کو جاؤ بھولو گے سب غم ۔۔۔۔ جب ہم نے پالی سارے غموں کو بھول گئے روضے کی جالی!
Read More