ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ میں کہوں سچ تو میرا سر جائے

میں کہوں سچ تو میرا سر جائے
جھوٹ بولوں تو روح مر جائے

ہے عجب درد کی یہ دولت بھی
جو سمیٹے وہی بکھر جائے

زہر سچ کا ہے میرے اندر جو
کاش شعروں میں سب اُتر جائے

وعدہ روٹی مکان کپڑے کا
دیکھنا پھر نہ وہ مُکر جائے

شام کو دیکھ کر پرندوں کو
سوچتا ہے وہ اپنے گھر جائے

صبح یہ شہر چھوڑ جاؤں گا
خیر سے شب اگر گزر جائے

خونِ دل سے لکھا گیا ہو جو
لفظ وہ روشنی سے بھر جائے

ہے ندیم اُس کی یہ جنم بھومی
کیسے سبی کو چھوڑ کر جائے

Related posts

Leave a Comment