روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا
Read MoreTag: Aslam Kolsari
یزدانی جالندھری
نگاہِ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے ہوائے شوق ذرا اور بھی نکھار مجھے
Read Moreاسلم کولسری ۔۔۔ نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے
نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمامِ حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلم جو کرنا…
Read More