سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے نامہ بر ان سے نہ کہنا نزع کا ہنگام ہے ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے آپ…
Read MoreTag: ustad
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل کہاں ٹوٹی امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں…
Read Moreاستاد قمر جلالوی
موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
Read More