منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں چارہ گر کیونکر نکالے دل میں پنہاں ہو گئیں ٹوٹ کر نوکیں ترے تیروں کی ارماں ہو گئیں کیا کروں جو آہیں رسوائی کا ساماں ہو گئیں مشکلیں ایسی مجھے کیوں دیں جو آساں ہو گئیں آشیاں اپنا اٹھاتے ہیں سلام اے باغباں بجلیاں اب دشمنِ جانِ گلستاں ہو گئیں میری حسرت کی نظر سے رازِ الفت کھل گیا آرزوئیں اشک بن بن کر نمایاں ہو گئیں کیا نہیں معلوم کون آیا عیادت…
Read MoreTag: qamar
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا
بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا قفس میں رو دیے یہ کہہ کے ذکرِ گلشن پر کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ کسی سر نگوں…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے کل کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے نامہ بر ان سے نہ کہنا نزع کا ہنگام ہے ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے آپ…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا
ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا گل کون تراشے ہے چراغِ سحری کا اِک وہ بھی ہے بیمار تری کم نظری کا مر جائے مگر نام نہ لے چارہ گری کا برہم ہوئے کیوں سن کے مرا حالِ محبت شِکوہ نہ تھا آپ کی بیداد گری کا بیگانۂ احساس یہاں تک ہوں جنوں میں اب گھر کی خبر ہے نہ پتہ دربدری کا اور اس کے سوا پھول کی تعریف ہی کیا ہے احسان فراموش نسیمِ سحری کا دنیا پہ قمر داغِ جگر ہے مرا روشن لیکن…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں ! اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر ! وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دےطوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیہ گر دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا…
Read Moreقمر رضا شہزاد
بھڑک اُٹھا تھا میں اپنے وجود میں اِک دن دیے کی لَو پہ لبوں کے نشان چھوڑتے وقت
Read More