قمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے

دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے

دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے

دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے

وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے

بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے

Related posts

Leave a Comment