استاد قمر جلالوی ۔۔۔ سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا

سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی جو حشر کو…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا

نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے

ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے اللہ خیر ہو کہ نئی واردات ہے صرف اک امیدِ وعدہ پہ قائم حیات ہے محشر میں تم ملو گے قیامت کی بات ہے آخر بشر ہوں ہو گیا جرمِ وفا تو کیا کوئی خطا نہ ہو یہ فرشتے کی بات ہے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ خشکی و تری پر قادر ہے آسان مری مشکل کر دے

خشکی و تری پر قادر ہے آسان مری مشکل کر دے ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے تو اپنی خوشی کا مالک ہے، کیا تاب کسی کی اف جو کرے محفل کو بنا دے ویرانہ ویرانے کو محفل کر دے اس رہروِ راہِ الفت کو دیکھے کوئی شام کے عالم میں جب اٹھ کے غبارِ راہگذر نظروں سے نہاں منزل کر دے گر ذوقِ طلب ہی دیکھنا ہے منظور تجھے دیوانے کا ہر نقش بنے زنجیرِ قدم اتنی تو کڑی منزل کر دے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا

بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا قفس میں رو دیے یہ کہہ کے ذکرِ گلشن پر کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا

Read More