سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی جو حشر کو…
Read MoreTag: Qamar Jal
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا
نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے
ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے اللہ خیر ہو کہ نئی واردات ہے صرف اک امیدِ وعدہ پہ قائم حیات ہے محشر میں تم ملو گے قیامت کی بات ہے آخر بشر ہوں ہو گیا جرمِ وفا تو کیا کوئی خطا نہ ہو یہ فرشتے کی بات ہے
Read More