نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا
Read MoreTag: Qamar J
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ
ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ غمِ تبدیلیٔ گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ…
Read More