سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی جو حشر کو…
Read MoreTag: Qamar Jalal
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا
نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم
دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے میخانے کو ہم لے کے اپنے ساتھ اک خاموش دیوانے کو ہم جا رہے ہیں حضرتِ ناصح کو سمجھانے کو ہم یاد رکھیں گے تمھاری بزم میں آنے کو ہم بیٹھنے کے واسطے اغیار اٹھ جانے کو ہم حسن مجبورِ ستم ہے عشق مجبورِ وفا شمع کو سمجھائیں یا سمجھائیں پروانے کو ہم رکھ کے تنکے ڈر رہے ہیں کیا کہے گا باغباں دیکھتے ہیں آشیاں کی شاخ جھک جانے کو ہم الجھنیں طولِ شبِ…
Read More