قمر جلالوی ۔۔۔ خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے

خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے

مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے
نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے

ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے
قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے

اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی
اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے

عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر ہے
قمر بالکل بنا دی ہے دلھن اردو زباں تو نے

Related posts

Leave a Comment