استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہمیں کیا جبکہ رہنا ہی نہیں منظور گلشن میں

ہمیں کیا جبکہ رہنا ہی نہیں منظور گلشن میں گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں جنوں میں بھی یہاں تک ہے کسی کا پاسِ رسوائی گریباں پھاڑتا ہوں اور رکھ لیتا ہوں دامن میںقمر قمر جن کو بڑے مجھ سے وفاداری کے دعوے تھے وہی احباب تنہا چھوڑ کر جاتے ہیں مدفن میں

Read More

قمر رضا شہزاد

اور پھر اس نے خامشی کے ساتھ ایک آواز کو نشانہ کیا

Read More

قمر رضا شہزاد

بھڑک اُٹھا تھا میں اپنے وجود میں اِک دن دیے کی لَو پہ لبوں کے نشان چھوڑتے وقت

Read More

قمر رضا شہزاد

مَیں کس طلب میں ہوا ہوں زمین سے بے دخل فلک کے پار مجھے کون سی صدا لائی

Read More

قمر رضا شہزاد

وہیں دھرے ہیں جنازے قطار میں شہزاد جہاں میں روز دیے سے دیا جلاتا تھا

Read More

قمر رضا شہزاد

صداے غیب سمجھ اور بے ٹھکانہ ہو سبھی کو روتے ہوے چھوڑ کر روانہ ہو

Read More

قمر رضا شہزاد ۔۔۔ میں مرنے والا نہیں!

میں مرنے والا نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں زمانوں سے سب دیکھتا آیا ہوں جنگ اور جنگ سے ہونے والی یہ بربادیاں قحط کی زد میں آئی ہوئی بستیاں زلزلوں سے زمیں بوس ہوتے مکاں کتنے سیلاب اور کتنے آتش فشاں میں نے جھیلی ہیں سینے پہ سب سختیاں میں اگر خاک ہوبھی گیا ۔۔۔ کیا ہوا پھر اسی خاک سے ایک دن یونہی ہنستا ہوا اک نئے روپ میں کھل اُٹھا میں بہادر ہوں اور اب بھی لڑتے ہوئے اس نئی جنگ میں دیکھ لینا اگر تیرے ہاتھوں سے مارا گیا…

Read More

دعا ۔۔۔ قمر جمیل

دُعا ۔۔۔ یہ دُعا ہے کوئی گلہ نہیں مرے ہم نشیں! مری زندگی وہ گلاب ہے جو کھلا نہیں مَیں یہ سوچتا ہوں، خدا کرے تجھے زندگی میں وہ سکھ ملے جو کبھی مجھے بھی مِلا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: چہار خواب پبلشر: مکتبہ آسی، کراچی اشاعت:  ۱۹۸۵ء

Read More

استاد قمر جلالوی

موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور

Read More