ہمیں کیا جبکہ رہنا ہی نہیں منظور گلشن میں
گرے بجلی چمن پر آگ لگ جائے نشیمن میں
جنوں میں بھی یہاں تک ہے کسی کا پاسِ رسوائی
گریباں پھاڑتا ہوں اور رکھ لیتا ہوں دامن میںقمر
قمر جن کو بڑے مجھ سے وفاداری کے دعوے تھے
وہی احباب تنہا چھوڑ کر جاتے ہیں مدفن میں
