تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوئے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مئے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں ہوش جب آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
یہ کہہ رہ گیا ہو گا کوئی ستم ورنہ
حضور اور مرے جینے کی آرزو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
