جلیل عالی ۔۔۔ توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے

توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے اگلے گناہ کے ابھی سائے نہیں گئے جگ گھوم گھام پھر اسی چھت کے تلے ملے گھر بیچ باچ دیس پرائے نہیں گئے جْھٹلا سکا نہ کوئی ہمارا کہا مگر سمجھے کبھی بھی صاحبِ رائے نہیں گئے ہارا جفا کے سامنے کیا کیا زرِ انا انکار ایک دو بھی کمائے نہیں گئے بارِ معاملات کے ڈھونے کا دَم کہاں گل حسنِ گفتگو کے اٹھائے نہیں گئے اک لَو لہو میں شوقِ شہادت کی تھی سو ہم مقتل میں آپ آئے ہیں‘ لائے…

Read More

جلیل عالی…. سلام

سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ حرف دو حرف

حرف دو حرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دریچوں میں وہی زرد گمانوں کا غبار وہی احساس کا بے رنگ سا موسم وہی تکرارِ خیال وہی یادوں کے تھکے عکس۔۔۔نگہ کی دیوار وہی ثابت وہی سیّار وہی بے ربط سی بے کیف صدائوں کے الٹ پھیر۔۔۔سماعت کا عذاب سرِ قرطاس نیا کوئی سوال اور نہ جواب خالقِ لوح و قلم! تیرے کرم کے قرباں! پھر تری رحمتِ جاں تاب سے ارزانی ہو سوچ آنگن میں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا حرف دو حرف سفر آگے کا

Read More