جلیل عالی ۔۔۔ توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے

توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے اگلے گناہ کے ابھی سائے نہیں گئے جگ گھوم گھام پھر اسی چھت کے تلے ملے گھر بیچ باچ دیس پرائے نہیں گئے جْھٹلا سکا نہ کوئی ہمارا کہا مگر سمجھے کبھی بھی صاحبِ رائے نہیں گئے ہارا جفا کے سامنے کیا کیا زرِ انا انکار ایک دو بھی کمائے نہیں گئے بارِ معاملات کے ڈھونے کا دَم کہاں گل حسنِ گفتگو کے اٹھائے نہیں گئے اک لَو لہو میں شوقِ شہادت کی تھی سو ہم مقتل میں آپ آئے ہیں‘ لائے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی

مدح کی مشکلوں سے ڈرتے ہیں لفظ اپنی حدوں سے ڈرتے ہیں اے شہِ ثَورؐ ! تیرے دیوانے کب جہاں کے ڈروں سے ڈرتے ہیں حوصلہ بس حِرا سے ملتا ہے جب بھی تنہائیوں سے ڈرتے ہیں تیری دُھن میں سلجھتی جاتی ہیں ہم کہ جن الجھنوں سے ڈرتے ہیں اہلِ باطل کہ کج کلاہِ حرم سب ترےؐ عاشقوں سے ڈرتے ہیں کیسے کیسے شہانِ جاہ و جلال تیرےؐ خستہ تنوں سے ڈرتے ہیں معجزہ ہے کہ اب بھی، شب زادے تیرےؐ روشن دنوں سے ڈرتے ہیں ہم ترےؐ اور…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ اسی رخ دل رواں پایا گیا ہے

اسی رخ دل رواں پایا گیا ہے جدھر روشن سا اک سایا گیا ہے اک اُس کی دُھن میں کیا کیا گُن سمیٹے جو گیت اندر کہیں گایا گیا ہے ترے بخشے ہوئے اک غم کے دَم سے یہ دل کچھ اور گہرایا گیا ہے کبھی اک بوند بحرائی گئی ہے کبھی اک بحر قطرایا گیا ہے سرِ صحرا اسے بھی پڑھ کے دیکھو ہواؤں سے جو لکھوایا گیا ہے دمکتا ہے برابر چاند اپنا فقط خبروں میں گہنایا گیا ہے سخن میں سوز ہے سارا اُسی سے ہمیں جس…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی

جادۂ عشق میں تابندہ علم تیرے ہیں کیا بتائیں ہمیں کیا نقشِ قدم تیرےؐ ہیں دوسرا کون ہے اس شان کا ممدوح کوئی وصف جیسے سرِ قرطاس و قلم تیرےؐ ہیں اک تریؐ دُھن ہے ہمارے لیے آہنگِ حیات شوق سینے میں بہم آنکھ میں نم تیرےؐ ہیں دل کسی موسم و ماحول کا محتاج نہیں ہوں کسی حال میں بھی ہم ہمہ دم تیرےؐ ہیں کیا مجال آنکھ اٹھے اپنی کسی اور طرف آخری سانس تلک تیری قسم تیرےؐ ہیں یاد رکھتی ہے تریؐ کیفِ دگر میں ان کو…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دُھن اس کی دن رات ضروری ورنہ بات ادھوری

دُھن اس کی دن رات ضروری ورنہ بات ادھوری اس کے نام حیات ضروری ورنہ بات ادھوری واجب ہے آگے آگے لہرانا خواب پھریرا رکھنی پیچھے ذات ضروری ورنہ بات ادھوری اندر باہر ایک نہیں تو لیکھ لکھیں خود کیسے پاس ہو یہ سوغات ضروری ورنہ بات ادھوری سہل نہیں اِن دشمن رستوں شوق سفر ہو پورا اپنے رُخ بھی گھات ضروری ورنہ بات ادھوری ہمراہی ہونے سے منزل ایک نہیں ہو جاتی دل سے دل کا ساتھ ضروری ورنہ بات ادھوری سبز رتوں کی شادابی ہر گوشۂ باغ تک…

Read More

جلیل عالی

دُھن ہے کہ سجے گھر بھی، دل میں ہے مگر ڈر بھی دیوار نہ گر جائے تصویر بدلنے سے

Read More