توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے اگلے گناہ کے ابھی سائے نہیں گئے جگ گھوم گھام پھر اسی چھت کے تلے ملے گھر بیچ باچ دیس پرائے نہیں گئے جْھٹلا سکا نہ کوئی ہمارا کہا مگر سمجھے کبھی بھی صاحبِ رائے نہیں گئے ہارا جفا کے سامنے کیا کیا زرِ انا انکار ایک دو بھی کمائے نہیں گئے بارِ معاملات کے ڈھونے کا دَم کہاں گل حسنِ گفتگو کے اٹھائے نہیں گئے اک لَو لہو میں شوقِ شہادت کی تھی سو ہم مقتل میں آپ آئے ہیں‘ لائے…
Read MoreTag: jaleel aali’s ghazals
جلیل عالی
دُھن ہے کہ سجے گھر بھی، دل میں ہے مگر ڈر بھی دیوار نہ گر جائے تصویر بدلنے سے
Read More