جلیل عالی ۔۔۔ توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے

توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے اگلے گناہ کے ابھی سائے نہیں گئے جگ گھوم گھام پھر اسی چھت کے تلے ملے گھر بیچ باچ دیس پرائے نہیں گئے جْھٹلا سکا نہ کوئی ہمارا کہا مگر سمجھے کبھی بھی صاحبِ رائے نہیں گئے ہارا جفا کے سامنے کیا کیا زرِ انا انکار ایک دو بھی کمائے نہیں گئے بارِ معاملات کے ڈھونے کا دَم کہاں گل حسنِ گفتگو کے اٹھائے نہیں گئے اک لَو لہو میں شوقِ شہادت کی تھی سو ہم مقتل میں آپ آئے ہیں‘ لائے…

Read More

غمگین دہلوی

وہ لطف اٹھائے گا سفر کا آپ اپنے میں جو سفر کرے گا Il savourera les délices du voyage Celui qui entreprend un voyage au plus profond de soi-même

Read More

محسن اسرار

مرے کس کام کے ہیں اب یہ کوے اور کبوتر عبث برباد گھر کی چاردیواری کریں گے À quoi me servent désormais corbeaux et colombesIls détruiront en vain les murs de ma demeure

Read More