سید آلِ احمد

کسی کے لب پہ چراغِ دعا نہیں جلتا ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے

Read More

سید آلِ احمد

یہ اور بات دل تھے کدورت کی خستہ قبر لہجوں میں نکہتوں سے بھرا بانکپن ملا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں

غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے ذہنِ ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمدؔ برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں…

Read More

سید آل احمد

رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے

Read More

سید آلِ احمد

کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ

Read More

کھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد

کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…

Read More