ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
Read MoreTag: جون ایلیا کی شاعری
جون ایلیا
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ……… Cette vie qu’on ne pouvait même pas vivre,C’est pourtant celle qu’on a dû survivre. …… Ein Leben, das kaum zu tragen war,Und doch lebten wir’s – Jahr für Jahr. …. 那段无法承受的人生,我们却一步步走了过来。 …. 生き抜けないと思った日々も、それでも僕らは生きてきたんだ。 ….. जो जी नहीं सके हम जैसे,उन्हीं पलों को हमने जिया वैसे।
Read Moreجون ایلیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
Read Moreجون ایلیا ۔۔۔ اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ آپ تو قتل عام کر رہے ہیں داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں ہم ہیں مصروفِ انتظام مگر جانے کیا انتظام کر رہے ہیں ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں ایک قتالہ چاہیے ہم کو ہم یہ اعلانِ عام کر رہے ہیں کیا بھلا ساغرِ سفال کہ ہم ناف پیالے…
Read Moreجون ایلیا
اے شجرِ حیاتِ شوق! ایسی خزاں رسیدگی پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
Read Moreراتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔ جون ایلیا
راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو، میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں، کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں، ہاں میرے خوابوں کو تمھاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے اِن صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو میرے…
Read More