اختر شمار ۔۔۔ خبر نہیں کہ ملیں ہم زباں کہیں نہ کہیں

خبر نہیں کہ ملیں ہم زباں کہیں نہ کہیں ہماری ہو گی مگر داستاں کہیں نہ کہیں کہاں کہاں لیے پھرتی ہے اک خیال کی رو ہمارے دل سا بھی ہو گا سماں کہیں نہ کہیں ضرور ملتا رہے گا مٹانے والوں کو ہمارے بعد ہمارا نشاں کہیں نہ کہیں شجر شجر پہ یہ سرگوشیاں ہیں پتوں کی کہ فصلِ گل میں بھی ہو گی خزاں کہیں نہ کہیں لہو جو دل کا جلائے ہوئے ہے کیا شے ہے؟ اگر ہے آگ تو ہو گا دھواں کہیں نہ کہیں

Read More

اختر شمار ۔۔۔ آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے

آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے دل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں اس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے اب اپنی زندگی ہے مسلسل سفر کا نام منزل قیام ہے نہ یہ رستہ قیام ہے میں سوچتا ہوں غارِ حرا میں گزار لُوں دل کے سفر میں ایک مہینا قیام ہے سجدہ ضرور آئے گا اگلے پڑاؤ میں فی…

Read More

ڈاکٹر اختر شمار ۔۔۔۔ میرا دشمن بھی خاندانی ہو

Read More

حلقہ اربابِ خیال ___ پہلا باقاعدہ اجلاس ۔۔۔ (12 فروری 2022)

پہلا باقاعدہ اجلاس(12 فروری 2022) حلقہ اربابِ خیال کاپہلاباقاعدہ اجلاس 12 فروری 2022شام سات بجے 252۔ جینیپر بلاک، بحریہ ٹاؤن ،لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر اختر شمار نے کی۔ نشست کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ صدرِ محفل جناب اختر شمار نے نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کی۔ جنرل سیکرٹری نوید صادق نے مہمانوں کی حلقہ کے اجلاس میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور حلقہ کے قیام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر یونس…

Read More

اختر شمار ۔۔۔ سفر اس بار لمبا ہو گیا ہے

سفر اس بار لمبا ہو گیا ہے کچھ آگے کا ارادہ ہو گیا ہے اُسی دن سے ہے دل آپے سے باہر وہ جس دن سے تمنا ہو گیا ہے تمھارے بعد تبدیلی یہی ہے جو دریا تھا وہ صحرا ہو گیا ہے وہ جس کو ناز تھا اک ہم سفر پر سُنا ہے، اب اکیلا ہو گیا ہے

Read More