خبر نہیں کہ ملیں ہم زباں کہیں نہ کہیں ہماری ہو گی مگر داستاں کہیں نہ کہیں کہاں کہاں لیے پھرتی ہے اک خیال کی رو ہمارے دل سا بھی ہو گا سماں کہیں نہ کہیں ضرور ملتا رہے گا مٹانے والوں کو ہمارے بعد ہمارا نشاں کہیں نہ کہیں شجر شجر پہ یہ سرگوشیاں ہیں پتوں کی کہ فصلِ گل میں بھی ہو گی خزاں کہیں نہ کہیں لہو جو دل کا جلائے ہوئے ہے کیا شے ہے؟ اگر ہے آگ تو ہو گا دھواں کہیں نہ کہیں
Read MoreTag: Akhtar Shumar's writings
اختر شمار ۔۔۔ آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے
آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے دل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں اس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے اب اپنی زندگی ہے مسلسل سفر کا نام منزل قیام ہے نہ یہ رستہ قیام ہے میں سوچتا ہوں غارِ حرا میں گزار لُوں دل کے سفر میں ایک مہینا قیام ہے سجدہ ضرور آئے گا اگلے پڑاؤ میں فی…
Read More