سجاد بلوچ ۔۔۔ دشتِ وحشت میں دروبام کے خط آتے ہیں

دشتِ وحشت میں دروبام کے خط آتے ہیں اس خرابے میں بھی آرام کے خط آتے ہیں اب وہ دل دار بھی لکھتا ہے نصیحت نامے مجھ سے ناکام کو کب کام کے خط آتے ہیں کوئے رسوائی کے اڑتے ہیں کبوتر اب تک کنجِ عزلت میں بھی الزام کے خط آتے ہیں سارا دن دھوپ میں اندیشۂ شب رہتا ہے میری صبحوں کو کسی شام کے خط آتے ہیں اب لفافے سے نکلتی نہیں کوئی خوشبو اب بھی آتے ہیں مگر نام کے خط آتے ہیں نقش ہوتا ہے…

Read More

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سجاد بلوچ

گلِ خیال میں کرتی ہے پھر نمو تری نعت مہک رہی ہے مرے دل میں چار سو تری نعت کرم ہو مجھ پہ بھی حسّان کے سخی آقا میں ایک بار پڑھوں تیرے روبرو  تری نعت سماعتوں سے اترتی ہے دل تلک خوشبو کہیں سناتا ہے جب کوئی خوش گلو تری نعت بھرے جہان میں سرمایہءسکوں ہے یہی ترا خیال، ترے در کی آرزو، تری نعت کہیں قصیدۂ بردہ شریف میں تری گونج کہیں ہے مصرعۂ  باہو میں ایک ہو تری نعت بوقتِ صبح سناتے ہیں بعدِ حمدِ خدا صبا،…

Read More

سجاد بلوچ … تھکن کے چڑھتے  اترتے خُمار تھک گیا میں

تھکن کے چڑھتے  اترتے خُمار تھک گیا میں قرار! گردشِ لیل و نہار تھک گیا میں مرے چراغ، مرے ہم نشیں خدا  حافظ! مرے سکوت، مرے انتظار تھک گیا میں ہواؤ، آؤ  اُڑاؤ ذرا مری بھی خاک اُڑا اُڑا کے یہ گرد و غُبار تھک گیا میں میں تنگ آیا گریبان چاک کر کر کے کہ توڑ توڑ کے غم کا حصار تھک گیا میں زمانے تجھ کو مبارک ترے ادب آداب اٹھا اٹھا کے تکلف کا بار تھک گیا میں اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی مرا دِن…

Read More

حلقہ اربابِ خیال ___ پہلا باقاعدہ اجلاس ۔۔۔ (12 فروری 2022)

پہلا باقاعدہ اجلاس(12 فروری 2022) حلقہ اربابِ خیال کاپہلاباقاعدہ اجلاس 12 فروری 2022شام سات بجے 252۔ جینیپر بلاک، بحریہ ٹاؤن ،لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر اختر شمار نے کی۔ نشست کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ صدرِ محفل جناب اختر شمار نے نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کی۔ جنرل سیکرٹری نوید صادق نے مہمانوں کی حلقہ کے اجلاس میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور حلقہ کے قیام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر یونس…

Read More

سجاد بلوچ ۔۔۔ منطقیں لاکھ اُٹھا لائو خرد خانے سے

منطقیں لاکھ اُٹھا لائو خرد خانے سےآئنہ بات سمجھتا نہیں سمجھانے سے ہجرتِ خانہ بدوشاں بھی کوئی ہجرت ہےہم تو ویرانے میں آئے کسی ویرانے سے زندگی ہم تجھے سانسوں میں گنا کرتے ہیںماپتے کب ہیں مہ و سال کے پیمانے سے بوکھلا جاتے ہیں تھوڑی سے پریشانی میںکام کچھ اور بگڑ جاتا ہے گھبرانے سے ہجرت و ہجر کا جب باب مکمل ہو گامیرا کردار نکل جائے گا افسانے سے

Read More

سجاد بلوچ ۔۔۔ کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے

کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے رواں ہے موجِ جنوں پہ احساس کا سفینہ اور ایک تہذیب اس سفینے پہ چل رہی ہے خمارِ خوابِ سحر، یہ دل اور تیری یادیں ہوا دبے پاؤں آبگینے پہ چل رہی ہے ہمارا جانا ہے اور سب کچھ ہے ڈوب جانا یہ زندگی تو ہمارے جینے پہ چل رہی ہے گزر چکا ہے تری جدائی کا سانحہ بھی ہماری دھڑکن نئے قرینے پہ چل رہی ہے

Read More