گلزار بخاری ۔۔۔ غرور (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )

غرور

۔۔۔۔۔۔

مہ و سال پر نہ غرور کر
تجھے اصلیت کا پتا نہیں
تجھے زندگی جو عطا ہوئی
وہ محیط تین دنوں پہ ہے
ترا عہدِ رفتہ ہے ایک دن
جو گزر گیا کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا
ترا آنے والا جو کل ہے وہ بھی ہے ایک دن
اسے عمر میں نہ شمار کر
کہ وہ آئے بھی تو یقیں نہیں
تجھے ذی حیات ہی پائے گا
ترے پاس ایک ہی روز ہے
جسے آج کہتے ہیں نکتہ داں
تری دسترس میں کچھ اور اس کے سوا نہیں
ترا کل اثاثہ ہے ایک دن
اسے غفلتوں میں گنوا نہیں
مہ و سال پر نہ غرور کر
تجھے اصلیت کا پتا نہیں

Related posts

Leave a Comment