اے یوسف ِ گم گشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا علم کہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہو شاد جہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ سکھ میں ہے کہ دُکھ میں ہے معلوم نہیں ہم کو مدت سے نہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ مشکل ہے بہت مشکل جینا تیری دوری میں سرمایہِ جاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہر چند ہوا غائب یعقوب کی نظروں سے پر دل پر عیاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ گرگوں سے فزوں نکلے تیرے لیے بھائی بھی بے امن و اماں…
Read MoreTag: گلزار بخاری کی نظمیں
گلزار بخاری ۔۔۔ ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی
ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی ہوتی ہے اپنے بخت پہ حیرت کبھی کبھی ہم جانتے ہیں عشق سفر عمر بھر کا ہے تیرے لیے سہی یہ مسافت کبھی کبھی تکتے ہیں آئنہ ترے ہاتھوں میں رشک سے جن کو بہم ہے دید کی مہلت کبھی کبھی تسلیم انحصار ترا کوہ پر مگر پڑتی ہے کاہ کی بھی ضرورت کبھی کبھی پہلی نوازشوں کو بھلانا روا نہیں ہو بھی اگر کسی سے شکایت کبھی کبھی چھپنا اسی سے، چاہنا بھی جس کے سامنے کھلتی نہیں جمال کی حکمت…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ غرور (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )
غرور ۔۔۔۔۔۔ مہ و سال پر نہ غرور کر تجھے اصلیت کا پتا نہیں تجھے زندگی جو عطا ہوئی وہ محیط تین دنوں پہ ہے ترا عہدِ رفتہ ہے ایک دن جو گزر گیا کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا ترا آنے والا جو کل ہے وہ بھی ہے ایک دن اسے عمر میں نہ شمار کر کہ وہ آئے بھی تو یقیں نہیں تجھے ذی حیات ہی پائے گا ترے پاس ایک ہی روز ہے جسے آج کہتے ہیں نکتہ داں تری دسترس میں کچھ اور اس کے سوا…
Read More