خزینے جاں کے لٹانے والے دلوں میں بسنے کی آس لے کر
سنا ہے کچھ لوگ ایسے گزرے جو گھر سے آئے نہ گھر گئے ہیں
Related posts
-
ناظم علی خان ہجر
شبِ فراق کچھ ایسا خیالِ یار رہا کہ رات بھر دلِ غم دیدہ بے قرار رہا -
ناظم علی خان ہجر
کہے گی حشر کے دن اس کی رحمتِ بے حد کہ بے گناہ سے اچھا گناہ... -
ناظم علی خان ہجر
ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں میں حسنِ اتفاق سے دیوانہ ہو گیا
