ایسی اوقات پہ ہم کتنے ہوئے ہیں حیران اپنے دل میں کوئی گوشہ نشیں ہے انسان ہم پہاڑوں پہ محبت کی اڑا دیتے ہیں تان بانسری اور یہ وادی ہے ہماری پہچان ہم بھی تلوار کے کچھ ہاتھ دکھا سکتے ہیں پاس گھوڑا بھی ہے اور یہ حاضر میدان دور سے ہم کو کئی شہر بلاتے ہیں مگر اس بیاباں سے نہیں اپنے سفر کا امکان اور پیرایہ کوئی دل کو نہیں ہے بھائے ہم نے دیکھی ہے اسی طرزِ سخن کی شان ہم اکیلے ہیں مگر بن میں بسے…
Read MoreTag: آصف ثاقب کی شاعری
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف ثاقب
نعتؐ ۔۔۔۔۔ قلم کی نسبتیں کتنی بڑی ہیں بہت ہی پیار سے نعتیں لکھی ہیں بڑے چھوٹے یہ پاکستان والے محمدؐ نام کے عاشق سبھی ہیں مدینے کے ہیں نغمے سوز والے غزل کی بھی غنائیں مدھ بھری ہیں مدینے سے سبق ہم کو ملا ہے روانِ رہگزارِ زندگی ہیں محمدؐ نے یہ بخشے ہیں اجالے جو ہم دامن کشائے آگہی ہیں عقیدت کے مناظر ہیں سنہرے ہماے سامنے صدیاں کھڑی ہیں محبت یہ مدینے سے ملی ہے جو اپنے غم رہینِ شاعری ہیں دعا، آداب، آنسو، شوق ثاقب نبیؐ…
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ گاؤں والا
گاؤں والا میں یاری دوستی کا ذوق رکھوں پسندیدہ ہے میری آشنائی میں بیلے پر کبڈی کھیل کھیلوں جو لہروں نے مجھے تیزی سکھائی میں نغمہ بار کھیتوں میں پھرا ہوں بھری فصلوں نے بخشی ہے رسائی اطاعت گاؤں کے بچّوں سے سیکھی بزرگوں نے سکھائی ہے بڑائی میں لکھوں خوش خطی کاغذ پہ ایسے مرے دل میں ہے روشن روشنائی ملے پنگھٹ سے نینوں کو ستارے بھلی ہے آنچلوں کی رونمائی گھنے تھے گاؤں میں والد کے سائے بڑی میٹھی تھی جنت مامتائی ستارہ وار میں گلیوں میں گھوموں…
Read More