مسلسل نامکمل راستوں سے
کسی نے رب کو ڈھونڈا مشکلوں سے
ابھی بھی دل مرا بنجر نہیں ہے
ہرا رکھا ہوا ہے خواہشوں سے
کسے معلوم کیوں کر دیکھتا ہوں
میں ہاتھوں کی لکیریں کچھ دنوں سے
بہت آسان ہوتی جارہی تھیں
پھر اک الجھن نکالی الجھنوں سے
ابھی منزل دکھائی کیسے دے گی
ابھی پالا پڑا ہے رہزنوں سے
یہ آگ اور خون کیسے گوندھتے ہیں
کبھی پوچھے کوئی کوزہ گروں سے
