کوئی تمثیل نہیں ہے یہاں پیارے میری
نقل کرتے ہیں فلک پر یہ ستارے میری
میں نے اک پیڑ لگایا کہ یہاں چھاؤں رہے
جان لینے پہ تلے ہیں یہاں سارے میری
مچھلیاں دیکھ کے چپ چاپ پلٹ جاتی ہیں
کوئی اوقات نہیں جھیل کنارے میری
اس سے کہنا کہ جہاں کوئی نہ ہو میں بھی نہ ہوں
اس سے کہنا وہاں تصویر اتارے میری
دوستو تم ہی بتاؤ مجھے کیسا ہوں میں
کوئی رائے نہیں بنتی مرے بارے میری
۔۔۔
کسی چراغ کسی روشنی کو مت دیکھو
ہمارے ساتھ رہو اور کسی کو مت دیکھو
تم اپنے آپ کو دیکھو کہاں پہ بہتر ہو
ہمارے غم کو ، ہماری خوشی کو مت دیکھو
ہمارے ساتھ بڑا مسئلہ ہے محفل میں
اْسی کے واسطے جاؤ اْسی کو مت دیکھو
ہمارے درد کو سمجھو اگر سمجھتے ہو
لبوں پہ آئی ہماری ہنسی کو مت دیکھو
تمھیں جو دیکھتا رہتا ہو رات دن آثم
نظر اٹھا کے اسی آدمی کو مت دیکھو
