محمد علی ایاز ۔۔۔ دیر تک میں نے بھی دیکھا اسے حیرانی سے

دیر تک میں نے بھی دیکھا اسے حیرانی سے آج اک شخص ملا اتنی پشیمانی سے اس قدر ہجر کی دولت سے نوازا اس نے میں نے اک عمر گزاری بڑی آسانی سے میں نے یہ سوچ کے اظہارِ محبت نہ کیا ڈر نہ جائے وہ کہیں لفظوں کی عریانی سے اس پہ واجب ہے کہ ہر پل وہ کرے شکر ادا جس کو ہر لمحہ محبت ملے ارزانی سے اے حسیں شخص ترے حق میں یہی بہتر ہے بھول جائے تو محبت مری آسانی سے میں نے جس جس…

Read More