راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار کس منہ سے بھلا مانگے دوا آپ کا بیمار بے یار و مددگار پڑے دیکھا تھا خود کو کہتے ہوئے لوگوں کو سنا آپ کا بیمار اک بار ذرا ہاتھ تو اس نبض پہ رکھیے ہو جائے گا پھر اچھا بھلا آپ کا بیمار کل رات بھی وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا اِمشب بھی اسی چھت پہ رہا آپ کا بیمار کیا کیا نہیں بھیجیں تھیں طبیبوں نے دوائیں بیمار مگر پھر بھی رہا آپ کا بیمار دیوانہ سمجھ کر کوئی…
Read MoreTag: Rakhshanda Naveed's poetry
رخشندہ نوید ۔۔۔ بدلتے ہی نہیں حالات میرے
بدلتے ہی نہیں حالات میرے کرے گا کیا مقدر ساتھ میرے ہوا کا زور بڑھتا جا رہا ہے ذرا ہاتھوں میں لینا ہاتھ میرے ترے پہلو سے اُٹھ کر ہی نہ جاؤں اجازت دیں اگر حالات میرے بہت جلدی میں آئی اور گئی ہے چرا کر رنگ سب برسات میرے خیالِ یار کی برکت ہے ورنہ مہکنا چھوڑ دیں باغات میرے
Read More