کاغذ پہ کس نے کیا ہے لکھا ‘ دیکھتی نہیں
چلنے کے بعد مڑ کے ہَوا دیکھتی نہیں
اے آنکھ ! کس فریب میں کھوئی ہوئی ہے تُو
یہ خواب بھی ہے دیکھا ہُوا ‘ دیکھتی نہیں
اک لہر ‘ دِل میں آخرِ شب جاگ جائے ہے
اور دور تک نہیں ہے دِیا ‘ دیکھتی نہیں
اے شام ! چلنے والی نہیں تیری ایک بھی
ہے آسمان روٹھا ہوا ‘ دیکھتی نہیں
منزل کی آس رکھتی ہے عظمی رواں ہمیں
کوئی پکار، کوئی صدا دیکھتی نہیں
