اسلام عظمی ۔۔۔ کاغذ پہ کس نے کیا ہے لکھا ‘ دیکھتی نہیں

کاغذ پہ کس نے کیا ہے لکھا ‘ دیکھتی نہیں
چلنے کے بعد مڑ کے ہَوا دیکھتی نہیں

اے آنکھ ! کس فریب میں کھوئی ہوئی ہے تُو
یہ خواب بھی ہے دیکھا ہُوا ‘ دیکھتی نہیں

اک لہر ‘ دِل میں آخرِ شب جاگ جائے ہے
اور دور تک نہیں ہے دِیا ‘ دیکھتی نہیں

اے شام ! چلنے والی نہیں تیری ایک بھی
ہے آسمان روٹھا ہوا ‘ دیکھتی نہیں

منزل کی آس رکھتی ہے عظمی رواں ہمیں
کوئی پکار، کوئی صدا دیکھتی نہیں

Related posts

Leave a Comment