ثمینہ سید ۔۔۔ نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں

نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں
بہار رت میں شجر پیرہن بدلتے ہیں

ڈرا نہ پائے گا یہ ہجر تیرگی سے ہمیں
ہماری پلکوں پہ شب بھر چراغ جلتے ہیں

رہِ سفر میں کوئی ہم سفر نہیں، لیکن
میں مطمئن ہُوں کہ چھا لے تو ساتھ چلتے ہیں

مقام ملتا نہیں ہے صعوبتوں کے بغیر
مجھے خبر ہے کئی لوگ ہاتھ ملتے ہیں

ہمیشہ فکر ستاتی ہے دشمنوں کو اب
کہاں پہ گرتے ہیں اور ہم کہاں سنبھلتے ہیں

مگر ہمیشہ انہیں مسکرا کے ملتی ہُوں
مجھے خبر ہے کئی لوگ مجھ سے جلتے ہیں

کبھی کبھار تو چہروں کا احتساب کریں
عجیب لوگ ہیں بس آئنے بدلتے ہیں

Related posts

Leave a Comment