اکرم جاذب ۔۔۔ بلا سے دشت چمن کے قریں سمجھتے ہو

بلا سے دشتِ چمن کے قریں سمجھتے ہو وہی حسیں ہے جسے تم حسیں سمجھتے ہو خود اپنے چار طرف بھی اگرچہ خود ہی ہو کہیں کہیں تو مجھے بھی کہیں سمجھتے ہو یہ خاک زادے ستارے ہیں کہکشاؤں کے یہ آسماں ہے جسے تم زمیں سمجھتے ہو ہمیشہ پکڑے گئے ہو فریب دیتے ہوئے زیادہ خود کو ذہین و فطیں سمجھتے ہو کسی بھی آئنے کو منہ نہیں لگاتے تم جو نکتہ بیں ہے اسے نکتہ چیں سمجھتے ہو براہِ  راست تخاطب کی راہ ڈھونڈنے کو فسانہ سن کے…

Read More

اکرم جاذب ۔۔۔ قاعدوں، رسموں، رواجوں میں نہ تعلیم میں ہے

قاعدوں، رسموں، رواجوں میں نہ تعلیم میں ہے دل کی تہذیب تو جذبات کی تنظیم میں ہے وقت کی نبض جہاں آ کے ٹھہر جائے گی ایسا لمحہ بھی مہ و سال کی تقویم میں ہے اہل ِ دنیا سے تصادم میں کھلیں گی آنکھیں یہ محبت تو ابھی عالمِ  تنویم میں ہے اس نے سوچا ہی نہیں دیس نکالا دیتے میری ہستی کی بقا عشق کے اقلیم میں ہے رنج و آلام کی راہوں نے سکھا دی جو مجھے رمز لفظوں میں نہ لفظوں کے مفاہیم میں ہے آشکارا…

Read More