اکرم جاذب ۔۔۔ یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی

یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی
شاید اسے نصیب فراغت نہیں ہوئی

مصرع سمجھ کے میں نے اٹھا تو لیا اسے
مشکل زمین تھی سو ریاضت نہیں ہوئی

مقصود دست ِ یار پہ طعنہ زنی نہیں
کیوں ایک زخم پر ہی قناعت نہیں ہوئی

ایسا بھی کوئی اجنبی ملنا محال ہے
خود سے ملا ہوں اور مجھے وحشت نہیں ہوئی

ہنستے رہے ہیں دامن ِ صد چاک پر رفیق
محسوس ہی رفو کی ضرورت نہیں ہوئی

لائیں کوئی ثبوت ِ اطاعت ہی سامنے
کہتے جو ہو جہاں سے بغاوت نہیں ہوئی

کن حیرتوں سے اور ملائے گی زندگی !
اس سے ملا ہوں اور مسرت نہیں ہوئی

یوں ہی تو بھر نہیں گیا ہے دل بہار سے
کیسے کہوں کہ مجھ پہ عنایت نہیں ہوئی

جاذب عروج جا کے پلٹتا بھی کس طرح
حاصل ہمیں زوال سے عبرت نہیں ہوئی

Related posts

Leave a Comment