محمود کیفی ۔۔۔ ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں

ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں ایک ہی وقت…

Read More

محمود کیفی ۔۔۔ وہ میں نہیں تھا ، مگر وہ میری ہی ذات سمجھے

وہ میں نہیں تھا ، مگر وہ میری ہی ذات سمجھے عجیب تھے لوگ وہ بھی جو دِن کو رات سمجھے ہو ملک پر جب امیر زادے کی حکمرانی غریب لوگوں کی کیسے وہ مُشکلات سمجھے خدا کے بارے میں بُت پرستوں سے بات کی تو کبھی وہ عُزٰی ، کبھی وہ لات و منات سمجھے ابھی وہ غُصّے میں ہے ، ابھی تُم خموش بیٹھو نہیں یہ ممکن ابھی تُمھاری وہ بات سمجھے میں دوستوں کی مدد کو بیٹھا تھا کیفی لیکن وہ میرے چُھپ بیٹھنے کو دُشمن کی…

Read More