ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں ایک ہی وقت…
Read More