محمود کیفی ۔۔۔ ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں

ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں
اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں

باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی
ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں

ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے
ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں

اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر
یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں

مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں
اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں

ایک ہی وقت میں سب کام کہاں مُمکِن ہے
جس کو پہلے میں تھا چھوڑا ، وہ کِیا دوسرے میں

پہلے مِصرعے میں تو ہر بات اُدھوری نِکلی
ہم پہ اشعار کا مضمْون کُھلا دوسرے میں
رِشتے ، رِشتوں کو مِلانے سے نئے بنتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے ہر اِک رنگ مِلا دوسرے میں

ہم نے ہر شخص کو آئینہ ہی سمجھا کیفی !
ہم نے تو خُود کو ہی دیکھا ہے سدا دوسرے میں

Related posts

Leave a Comment