نائلہ راٹھور ۔۔۔ بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا

بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا
"اک دیا تم سے محبت کا جلایا نہ گیا”

دیکھتے دیکھتے ہوتے گئے یوں رستے جدا
تم سے روکا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا

ہم سے گر تم ہو گریزاں تو گریزاں ہی رہو
فاصلہ ہم نے بڑھایا بھی، بڑھایا نہ گیا

آج بھی رات میں سناٹے ڈراتے ہیں مجھے
آج بھی دل سے اس آسیب کا سایا نہ گیا

تم نے سوچا ہے کبھی کیسے گزرتی ہے مری
تم نے پوچھا نہیں اور ہم سے بتایا نہ گیا

Related posts

Leave a Comment