دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکا ہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتا ہوں قیامت اور قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا…
Read MoreCategory: آج کی نظم
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…
Read Moreضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!
Read Moreصغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں جس میں ڈھل گیا کہ میرے خد و خال ہیں، وہی جو تھے مگر مرا نظام انہضام اب بدل گیا میں اپنے وقت کا ہوں کوئی اژدھا اگر نہیں تو گزرے وقت کا میں کوئی ڈائنوسار ہوں میں دشت میں لگے ہوئے اک ایک پیڑ کی ہر ایک شاخ تک کو کھا گیا پیٹ پھر نہیں بھرا تو کوئلے کی کان بھی جو راہ میں پڑی ہر اک چٹان بھی چبا گیا ہزارہا جتن…
Read Moreنثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے…
Read Moreشائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں سفرمیلوں یہ کرتی ہے کبھی گلزار بن جائے کبھی یہ نوح کی کشتی کبھی گمنام ہو جائے کبھی ہر رنگ کو پکڑے محبت موم جیسی ہے یہ حدت سے پگھلتی ہے کبھی محفل میں سجتی ہے کبھی صحرا بھٹکتی ہے کبھی بس ایک خواہش میں یہ خود پہ جبر کرتی ہے محبت سات رنگوں کی کوئی تشہیر ہو جیسے محبت راگ ہو جیسے محبت وصل کی خواہش محبت دل نشیں تعبیر جیسی ہے محبت…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ایک خاموش نظم
ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔۔ ذرا سوچ لو یہ
ذرا سوچ لو یہ ۔۔۔۔ جو تم نے سمیٹا نہیں مجھ کو اس زندگی میںجو میں روزہی اس طرح سے بکھرتا رہا تو تمہیں ایک زحمت بہت جلد کرنا پڑے گی ذرا سوچ لو یہ ، مری خاک کو تُم سمیٹو گی کیسے !
Read Moreشبیر احمد آکاش ۔۔۔ پرچھائی
پرچھائی ۔۔۔۔ دستِ راست میں مو قلم تھامے وہ کینوس پر رنگوں کا جادو بکھیرنے میں مصروف تھی زلفیں کوتاہ تھیں انہیں پیشانی کے سامنے سے ہٹانے کی ضرورت اسے محسوس نہیں ہوئی۔ لال، پیلے، اور ہرے رنگوں کی آمیزش سے تصویر کے خد و خال بڑی نفاست سے ابھر رہے تھے میں نے خود کو اس کے قریب جانے سے روکے رکھا، کہیں یہ دخل اندازی اْس کی خلوت پر گراں نہ گزرے۔ تصویر کے نقش یکے بعد دیگرے سامنے آتے جا رہے تھے تیکھی ناک، لب لعل ،…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ایک منٹ کی خاموشی
ایک منٹ کی خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( کئی سال پہلے پاکستان میں زلزلے میں مرنے والوں کی یاد میں عالمی فورم میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ کی خاموشی ان لوگوں کی یاد میں تھی جن کے اندر جا اتری موت کی گہری خاموشی جن کی ہستی پل بھر میں لمبی چُپ میں ڈوب گئی ملبے میں جو دفن رہے جن پر سکتہ ہے طاری جن پر عمرِفانی کا اک اک لمحہ ہے بھاری ٭ دنیا کے ہمدردوں نے ان سے بطورِ ہمدردی کتنی مشکل سے…
Read More