گلزار بخاری ۔۔۔ بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی

بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی کس رخ…

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔ دنیا دار

دنیا دار ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں  جلوہ کناں چاہت اِخلاص کی ساری حدت اِحساس کا تمام وزن جذبوں کے سارے پرتو جب میں نے جنون کے میزان پر رکھے تو تمہارا پلڑا بھاری تھا کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی اور میں احتیاط کے کرب میں اُلجھا صرف دُنیاداری کرسکا

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ ڈیم

ڈیم ۔۔۔۔ اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے وسائل کی بقا ہوتے کوئی پانی کا ریلا سیل یا طوفان کیوں بنتا زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا مویشی اور بندے ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں پریشاں اس قدر ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے رات دن تعمیر ہوتے ہیں طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں کمی بجلی کی پیش آتی نہ کوئی کارخانہ بندشوں کا سامنا کرتا تھپیڑے آزمائش کے مسلسل ارتقا ہوتے اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ راستی کا سفر

راستی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں سامنے کس طرح کی بستی ہے سرنگوں شر کے سامنے دیکھی زندگی خیر کو ترستی ہے جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ ہے یہ پہچان کس قبیلے کی خود پرستی کے اس خرابے میں جرم ہے آئنہ دکھانا بھی جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا جب ہے انصاف خود کٹہرے میں

Read More

ثمینہ سید ۔۔۔ میں زندگی ہوں

میں زندگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں مسافتوں کی میں دھول مٹی سے اٹ گئی ہوں میں مر رہی ہوں مگر تھا عزم صمیم میرا کہ منزلوں تک ہے مجھ کو جانا سو عزم و ہمت سے سوئے منزل میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں ہے شدتوں سے نباہ میرا یہ غم ہے میرا کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں اگر کسی کو گمان…

Read More

ایوب خاور ۔۔۔ ہر دل عزیز امجد اسلام امجد کے لیے

اے پیارے امجد! ہمارے امجد! کہاں گئے ہو ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو یہ کس سے پوچھیں تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی تو مڑ کے دیکھا مڑ کے دیکھا تو تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو! اے پیارے امجد! ہمارے امجد سبھی کے امجد تم تو بھائی یہیں کہیں اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے نہ جانے کس شام کی اتھا میں اتر گئے ہو بھلا کوئی اس طرح بھی…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ گلوبل ورلڈ کے کمبل میں

گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ مون سون

پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں پھر پرندے ہرے سمندر پر رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک پھر کسی یاد کی سیہ آندھی دل کے اطراف سے گزرتی ہے ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔ دور کچھ پربتوں کے دامن میں ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!

Read More

امجد بابر ۔۔۔ فروٹ کیک

تُم کاٹو گے میرے راستے کو تمھارے پاس کالی بلی بھی نہیں کہاں سے نحوست کے آکٹوپس روایات کی زنجیریں لے آئے ہو میں صدیوں سے آنسوؤں کے سمندر پہ بہہ رہی ہوں مجھے خوابوں کی سبز ڈولی میں بٹھا کر فروخت کیا جاتا ہے کبھی گندے ہاتھوں سے میرے حْسن کی توہین ہوتی ہے کبھی بانجھ مرد کی بے ثمر ساعتوں سے سمجھوتہ کرتی ہوں کبھی اکلاپے سے لپٹ کر جاگتی ہوں کبھی شوہر کی غیر موجودگی میں رات کے دروازے پہ کھڑے بہکے سایوں کی دستک سنتی ہوں…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)

ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)​ ……… تجھ سے میرے خدا کہوں کیا حالِ دلِ مبتلا کہوں کیا جس حال میں ہوں، تجھے خبر ہے بندہ ہوں میں ترا، کہوں کیامیں ایک حصارِ عقل میں ہوں تو سوچ سے ماورا، کہوں کیا آتی ہے صدا پرندگاں کی دیتی ہے ترا پتا، کہوں کیا میں عجز سرشت، سر بہ خم ہوں ہے عجز مری انا، کہوں کیا تو لامتناہی و دوامی زیبا ہے مجھے فنا، کہوں کیا بے مایہ و کم نظر ہوں لیکن تو جانتا ہے، بھلا کہوں کیا! جیسا ہوں…

Read More