مہر علی ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن

صبح کی پہلی کرن
۔۔۔
صبح کی پہلی کرن۔۔۔
شام اتر ی آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے
صبح کی پہلی کرن۔۔۔
دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے
صبح کی پہلی کرن۔۔۔
باغِ نادیدہ سے یوں گم نامیوں کے پھول چننا چھوڑ دے
گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پر
یوں ٹہلنا چھوڑ دے
رات کا در توڑ دے
صبح کی پہلی کرن۔۔۔
جلدی جلدی آسماں کی سیڑھیاں نیچے اتر
اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کر
ڈھونڈ اس میں شادمانی کا ہرن
صبح کی پہلی کرن۔۔۔

Related posts

Leave a Comment