اُس پار
۔۔۔
جہاں تصویر بنواتے ہوئے
جو مسکراہٹ ہے
وہی چہرے پہ سچ مچ ہو
جہاں یہ سر مئی شامیں
پہاڑوں سے الجھتی ہوں
جہاں یہ چاندنی
شبنم کے سائے میں ٹہلتی ہو
جہاں امید کی سب کشتیاں
دل کے سمندر میں اترتی ہوں
جہاں آنکھوں کے خوابوں کو
حسیں تعبیر ملتی ہو
جہاں خاموشیوں نے آسماں کے راز کھولے ہوں
جہاںان موسموں پہ دھوپ کا پہرا نہیں ہوتا
جہاں سینے میں کوئی درد اُٹھتا ہو
مگر گہرا نہ ہو پائے
جہاں ایقان کے پنچھی اڑیں ۔۔۔!
اُن کو کوئی خطرہ نہ لاحق ہو
جہاں اِس جسم کی سرحد نہ ہو کوئی
حیات اور موت کو جس جا
کوئی الجھن نہ گھیرے ہو ۔۔۔!
مجھے بھی لے چلو
اس پار۔۔۔!
