(نذرِ غالب)
گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے
اس طور خود کو بے سر و ساماں کیے ہوئے
بے زور ہیں، پہ رہتے ہیں، ہر آن خود سے ہم
صد حیلہ ہائے دست و گریباں کیے ہوئے
کیا اصلِ مدعا ہے کوئی جانتا نہیں
یہ ہم جو لغزشوں کو ہیں عریاں کیے ہوئے
فرصت جو دے یہ دنیا ، تو آئیں اِدھر کو بھی
مدت ہوئی ہے ، آپ سے پیماں کیے ہوئے
نشتر سے کم نہیں ہے ، جو نکلے ہے منہ سے بات
رکھتے ہو، حرف حرف ہی، پیکاں کیے ہوئے
اُس کو خدا سمجھتے ہیں ،جس کو سمجھتے ہیں
ہم جان و دل ہیں ، تابعِ یزداں کیے ہوئے
اس حوصلے کی داد، کوئی دے نہ دے ہمیں
رکھتے ہیں دل کو، صاحبِ ارماں کیے ہوئے
