محمد نصیر زندہ ۔۔۔ رباعیات

دستار سے اوجِ عرفاں کیوں نہ ہوا
سر عیب و ہنر کا عریاں کیوں نہ ہوا
واعظ کی نادانی پہ رحم آتا ہے
مسلم تو ہوا پر انساں کیوں نہ ہوا

آوارہ خیال خواب داں میں اتر آئے
نظارے پھسل کے سائباں میں اتر آئے
وہ یاد کے رخسار پہ بوسے کا پھول
خوشبو کے سبھی رنگ گماں میں اتر آئے

قلزم کا سفیر آبلہ پا نکلا
دریا بھی آرزو کا پیاسا نکلا
آئینۂ رنگ میں در آئی تصویر
افسانہ حقیقت کا تماشا نکلا

اندیشۂ تعبیر سے ڈر جاتے ہیں
معنی کی سواری سے اتر جاتے ہیں
ہانکو نہ شتر وار غزل کے ریوڑ
الفاظ میاں خود کشی کر جاتے ہیں

دیوار میں در آئے نہ بیاباں کا رنگ
لا آنکھ بھر آغوشِ گلستاں کا رنگ
کوئی بوسہ صبا کی مٹھی میں رکھ
شاید کہ چرا لائے لب جاں کا رنگ

لذت کا درد بیزباں ہوتا ہے
ڈھولک کی تھاپ پر بیاں ہوتا ہے
آئینۂ تمثال میں جلتا ہے چراغ
ہر نقش خیال کا دھواں ہوتا ہے

جام و ساغر کے بلبلے پھوٹ پڑے
دریا ساحل کے ہاتھ سے چھوٹ پڑے
آئینہ درمیان سے ہٹ گیا تو
دو سائے اک دوسرے پر ٹوٹ پڑے

Related posts

Leave a Comment